عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ ، وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ أَوْ يَفِيءَ ، وَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ طَلَاقٌ إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ حَتَّى يُوقَفَ "
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ ، وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ أَوْ يَفِيءَ ، وَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ طَلَاقٌ إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ حَتَّى يُوقَفَ
يفيء: يفيء : يرجع ويعود
حديث رقم: 5005 في صحيح البخاري كتاب الطلاق باب قول الله تعالى: {للذين يؤلون من نسائهم تربص أربعة أشهر، فإن فاءوا فإن الله غفور رحيم، وإن عزموا الطلاق فإن الله سميع عليم} "
حديث رقم: 11284 في مصنّف عبد الرزاق كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ انْقَضَاءِ الْأَرْبَعَةِ
حديث رقم: 1794 في سنن سعيد بن منصور كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ مَنْ قَالَ : يُوقَفُ الْمُولِي عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ
حديث رقم: 14220 في السنن الكبير للبيهقي كِتَابُ الْإِيلَاءِ بَابُ مَنْ قَالَ : يُوقَفُ الْمُولِي بَعْدَ تَرَبُّصِ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ
حديث رقم: 2151 في السنن الصغير للبيهقي كِتَابُ الْإِيلَاءِ بَابُ الْإِيلَاءِ
حديث رقم: 1143 في مسند الشافعي وَمِنْ كِتَابِ الصَّدَاقِ وَالْإِيلَاءِ
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ أَوْ يَفِيءَ وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ طَلاَقٌ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ حَتَّى يُوقَفَ .
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, 'When a man makes a vow to abstain from intercourse with his wife and four months have passed he must declare his intent and either he is divorced or he revokes his vow. Divorce does not occur until four months have passed and he continues to abstain
Telah menceritakan kepadaku dari Malik dari [Nafi'] dari [Abdullah bin Umar] berkata; 'Seorang laki-laki yang bersumpah untuk tidak menyetubuhi isterinya, jika hal itu telah melampaui batas empat bulan. Maka ia diminta ketegasan dari perkataannyaa; menceraikannya atau ataukah tidak. Dan belum terjadi talak sampai laki-laki tersebut mempertegas perkataannya walaupun telah melewati batas empat bulan
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص ایلا کرے اپنی عورت سے جب چار مہنے گزر جائیں تو خاوند کو حاکم کے سامنے مجبور کریں طلاق دے یا رجوع کرے اور بغیر طلاق دئیے چار مہینے گزر جانے سے عورت پر طلاق نہ پڑے گی ۔
کہا مالک نے ایک شخص نے اسباب رہن رکھا وہ مرتہن کے پاس تلف ہوگیا لیکن راہن اور متہن کو زر رہن کی مقدار میں اختلاف نہیں ہے البتہ شئے مرہوں کی قیمت میں اختلاف ہے راہن کہتا ہے اس کی قیمت بیس دینار ہے ۔ اور مرتہن کہتا ہے اس کی قیمت دس دینار تھی اور رہن بیس دینار ہے اور مرہن سے کہا جائے گا کہ شئے مرہوں کے اوصاف بیان کر جب وہ بیان کرے تو اس سے حلف لے کر نگاہ والوں سے ایسی شئے کی قیمت دریافت کریں اگر وہ قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو مرتہن سے کہا جائے گا جس قدر زیادہ ہے وہ راہن کو دے اگر قیمت کم ہے تو مرتہن جس قدر کم ہے راہن سے لے لے اگر برابر ہے تو خیر قصہ چکا نہ یہ کچھ دے نہ وہ کچھ دے۔